Our _Blog_

Our Daily News

Friday 20th September 2019 ----- 20th Muharram, 1441

some image

لندن؛ صدا کمال کے راجہ اکرم مرحوم کی اہلیہ رمضان بیگم کی سلاو میں رحلت

London; Ramzan Begum of Sadda Kamal passed away in Slough (See video) .

صدا کمال کے راجہ اکرم مرحوم کی اہلیہ رمضان بیگم کا سلاو میں انتقال ہو گیا۔ مرحومہ کو ناسازی طبع کے باعث ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں انھیں دل کا دورہ پڑا اور دونوں گردوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا جس کے باعث صرف دو روز کے قلیل عرصے کی بیماری کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ مرحومہ راجہ زبیر آف صدا کمال اور لیڈز کی خالہ بھی تھیں۔ سلاو میں ان کی نماز نازہ ادا کر دی گئی۔ ان کی میت تدفین کے لئے پاکستان لے جائی جائے گی۔

لندن میں مقیم پاکستانیوں کا احسن اقدام،چار لاکھ روپے عطیے سے کنواں چالیس گھروں کے لئے وقف

London-based British Pakistanis take good initiative, donate Rs 4 lakh for water well (See video report)

پنڈبینسو(نمائندہ پوٹھوار ڈاٹ کوم)چوہدری الفت حسین۔۔۔ڈھوک سنگوٹ کے رہائشی پینے کے پانی کے لئے انتہائی مشکلات کا شکار تھے،پتھریلہ علاقہ ہو نیکی وجہ سے کنویں کی کدائی مشکل تھی،ڈاکٹر پرویز اختر بھٹی کی درخواست پر لندن یو کے میں مقیم،ڈھوک چوہدریاں نلہ مسلماناں کے رہائشی چوہدری محمد سعید،چوہدری محمد نعیم نے چار لاکھ روپے سے سابق ناظم کپٹن ریٹائرڈ چوہدری محمد اشرف کی نگرانی میں اس کنویں کو مکمل کر دیا ہے جہاں ان اوورسیز پاکستانیوں کی کاوش کو سراہا گیا وہاں پر گاؤں والوں نے تقریب کا اہتمام بھی کیا،جس میں سابق ناظم کپٹن ریٹائرڈ چوہدری محمد اشرف،کپٹن ریٹائرڈ چوہدری منظور حسین،ماسٹر ملک محمد اشفاق،ڈاکٹر ربنواز راجہ نے بھی ان دوستوں کی خصوصی کاوش پر روشنی ڈالی،اس کے علاوہ تحصیل کلر سیداں میں نلہ مسلماناں کے مخیر حضرات کی عوامی خدمت کا بطور خاص ذکر کیا،اس کنویں سے ڈھوک سنگوٹ کے چالیس گھر مستفید ہوں گئے،جو کہ صدقہ جاریہ میں اہم اور احسن اقدام ہے،اس موقع پر پورا گاؤں ان حضرات کے لئے خصوصی طور پر دعا گو ہے،تاثرات ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیے۔

تیل تلاش کرنے کی کمپنی بی جی پی نے کلرسیداں اورڈڈیال کے دیہات میں تیل کی تلاش کا کام مکمل

Kallar Syedan; Oil exploration company BGP has completed the search for oil in Kallar Syedan and Dadyal villages

کلرسیداں (اکرام الحق قریشی)تیل تلاش کرنے کی کمپنی بی جی پی نے کلرسیداں اورڈڈیال کے دیہات میں تیل کی تلاش کا کام مکمل کر لیا جو پانچ ماہ تک جاری رہا اور اس میں کمپنی کے اٹھارہ سو ملازمین نے حصہ لیا تیل کی تلاش میں متاثرہ د وہزار لوگوں میں ایک کروڑ روپے کے چیک بھی تقسیم کیئے گئے،تفصیلات کے مطابق بی جی پی کمپنی نے ایڈمن ملک عاطف فیلڈ افسران رانا کامران،سید مظہر حسین شاہ اور سیکیورٹی آفیسر نور خان کی قیادت میں پانچ ماہ تک کلرسیداں کی یوسی چوآخالصہ،منیاندہ اور سموٹ جبکہ دریائے جہلم کے اس پار تحصیل ڈڈیال آزاد کشمیر کی یوسیز سرکھی،کھٹاڑ،کوٹلہ اور دیگر میں بھی پانچ ماہ تک تیل کی تلاش کا کام جاری رکھا جس میں اٹھارہ سو ملازمین نے حصہ لیا کمپنی نے اپنا کام مکمل کرنے کے بعد سامان کی منتقلی شروع کر دی ہے کمپنی نے کلرسیداں اور ڈڈیال کے ایسے دو ہزار لوگوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زائد مالیت کے چیک تقسیم کیئے جن کی زمینوں سے گاڑیاں اور کیبل گزاری گئیں یا ان میں کھدائی ہوئی یا ان کی کوئی فصل متاثر ہوئی کمپنی نے ہر قسم کے نقصان کا معاوضہ ادا کر دیا ہے اور اس کے لیئے کلرسیداں اور ڈڈیال میں الگ الگ تقریبات منعقد کی گئیں جن میں متاثرین کے علاوہ مقامی عمائدین،علمائے کرام،آئمہ کرام،اساتذہ کرام،تمام سیاسی سماجی رہنماؤں اور کارکنوں،سول سوسائٹی،تاجروں اور صحافیو ں نے بھی شرکت کی ان سب کی موجودگی میں متاثرین کو نہ صرف چیک تقسیم کیئے گئے بلکہ ان کی خاطر تواضع بھی کی گئی،تیل کمپنی کے ذمہ داران نے کام کے دوران مقامی لوگوں کے تعاون کو مثالی قرا ر دیا جبکہ متاثرین نے بھی امدادی چیکوں کی فراہمی پر پورے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمپنی کا اس حوالے سے بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جو اس نے دریائے جہلم کے کنارے دور دراز پہاڑی سلسلوں میں مقیم لوگوں کو قیام پاکستان کے بعد پہلی بار کچی سڑکیں بنا کر بطور تحفہ پیش کی ہیں جن ہیں مستقبل میں پختہ کر کے پسماندہ لوگوں کو بھی سفری سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

بورڈ آف گورنر کے تحت چلنے والے گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ فار بوائز میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارش پر تقرریاں کرنے سے کالج کا تعلیمی معیار تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا

Kahuta; allegations of corruption by borad of governors at Boys government degree college Kahuta

some image

کہوٹہ: نمائندہ پوٹھوہار ڈاٹ کام بورڈ آف گورنر کے تحت چلنے والے گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ فار بوائز میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارش پر تقرریاں کرنے سے کالج کا تعلیمی معیار تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا۔ ایک سیٹ پر دو پرنسپل چار ماہ تنخواہ لیتے رہے۔ اپریل 2015میں پانچ سال قبل موجود ہ پرنسپل عبدالمنعم کو دو سال کے لیئے اصغر مال کالج سے ڈیپوٹیشن پر لایا گیا۔ دو سال کے بعد وقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی قومی اخبار میں اشتہار دیئے۔موجود پ پرنسپل کو تین بار ایک ایک سال کی ایکسٹینشن دی گئی۔ سیکنڈ ایئر کے مایوس کن سالانہ نتائج میں کا لج کے (50) میں سے (13سٹوڈنٹس کا میاب ہو سکے۔ تفصیل کے مطابق بورڈ آف گورنر کے تحت چلنے والے گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں ایک با اثر شخصیت کی بھانجی اور دیگر تین لیکچررزکو میرٹ کے خلاف (30) ہزار تنخواہ کی بجائے (40) ہزار تنخواہ پر سات ماہ کے لیئے سفارش پر رکھا گیا۔ جنکے تعلیمی نتائج مایوس کن اور مائنس ہونے کے باوجود بار بار سفارشی اساتذہ کو ایکسٹینشن دی گئی۔ کالج میں اپریل 2015سے جولائی 2015تک چار ماہ کے دوران پرنسپل کی سیٹ پر دو پرنسپل غیر قانونی تنخواہ وصول کرتے ہیں۔بورڈ آف گورنر ز کی من مانیاں، غبن اور کرپشن پر چشم پوشی سے بھاری فیسیں اداکرنے والے شہری، طلبا و طالبات، والدین مایوس کن نتائج پر پریشان ہیں۔ کالج میں اس وقت قانون کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے دو غیر قانونی وائس پرنسپل سفارشی رکھے گئے۔ بندر بانٹ کی وجہ سے اسا تذہ کو محروم کر کے من مانیاں عروج پر ہیں۔ جبکہ کالج کے سینیئر لیکچرز پروفیسر محمد شبیر راجہ کو حقائق سامنے لانے پر دبا جا رہا ہے۔ اور ان کی حق تلفی کر کے میرٹ کے خلاف تقرریاں جاری ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں حال ہی میں وفات پانے والے پروفیسر محمد علی قریشی مرحوم نے(18) سال سروس کی ان کے یتیم بچے دھکے کھا ر ہے ہیں۔ جبکہ جی۔ پی۔ ایف کی بجائے پروفیسر محمد علی قریشی کو سی۔ پی۔ ایف کی مدمیں ادائیگی کرکے اساتذہ کو جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کو 2004سے منظور شدہ الاؤنس نہ دیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے بورڈ آف گورنر کی نا اہلی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ آف گورنرکو ختم کر کے پنجاب حکومت کالج کو اپنی تحویل میں لے۔ سرکاری اداروں سے زیادہ ہم بچوں کی فیسیں (25) سے (30) ہزار ادا کر رہے ہیں۔ مگر BOGسے ہٹ کر من مانیاں عروج پر ہیں۔ (63) سالہ پرنسپل عبدالمنعم کو اب مزید ایکسٹینشن دینے کی بجائے ادارے کا میرٹ پر احتساب کرکے کالج کے سینیئر لیکچرر کو پرنسپل لگا کر درس و تدریس کا نظام درست کیا جائے۔

Picture of the Day